میرا گینگ ریپ کیا گیا اور جب میں بے حوش ہوگئی توپھر

میرا گینگ ریپ کیا گیا اور جب میں بے حوش ہوگئی توپھر

جب بھی کوئی داعش کے ہاتھوں جنسی غلام بنائی گئی یزیدی خاتون کسی طرح فرار ہو کر شدت پسندوں کے چنگل سے نکلتی ہے تو عورتوں پر ڈھائے جانے والے روح فرسا مظالم کی ایک نئی کہانی سامنے آتی ہے۔ گزشتہ روز نادیہ مراد باسی طحہٰ نامی 21سالہ یزیدی لڑکی نے داعش کی قید میں اپنے اوپرٹوٹنے والے انسانیت سوز مظالم کی داستان سنائی۔ عراق میں شدت پسند گروپ داعش کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے اور3 ماہ تک زیادتی کا نشانہ بننے والی نادیہ مراد نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس تنظیم کو جرائم کی عالمی عدالت میں لے کر جائے اور اس شدت پسند گروپ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے۔برطانوی اخبار ”ڈیلی میل“ کی رپورٹ کے مطابق 21 سالہ نادیہ مراد باسی طحہٰ نے اقوام متحدہ کی 15رکنی سلامتی کونسل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ” داعش یزیدیوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔وہاں لوگ بے دریغ قتل کیے جا رہے ہیں، خواتین کو جنسی غلام بنایا جا رہا ہے، مجھے امید ہے کہ آپ یہ سب بین الاقوامی عدالت تک لے کر جائیں گے۔“اس نے بتایا کہ ”داعش کے شدت پسند یزیدی خواتین کو جانوروں کی طرح فروخت کرتے اور خریدتے ہیں۔

نادیہ مرادنے بتایا کہ ”2014ءمیں شدت پسندہمارے گاﺅں میں داخل ہوئے اور تمام خاندانوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے گاوں کے مردوں کو قتل کر دیا۔ اس میں میرے9 بھائیوں میں سے 6 کو بھی قتل کر دیا گیا۔مردوں کو قتل کرنے کے بعد گاﺅں کی خواتین اور بچوں کو بس کے ذریعے قریبی شہر موصل میں ایک بڑی عمارت میں لیجایا گیا جہاں پہلے بھی سینکڑوں یزیدی خواتین اور لڑکیاں موجود تھیں۔ وہاں انہیں جو تکالیف پہنچائی گئیں وہ بیان نہیں کی جا سکتیں۔ نادیہ مرادنے خود پر ڈھائے جانے والے مظالم کو یاد کرکے رو پڑی اور اس نے کہا کہ” ایک شدت پسند نے مجھ سے جبری شادی کی، اس سے قبل کئی بار میں جنسی زیادتی اور اجتماعی عصمت دری کی اذیت سے گزر چکی تھی، جب موصل کی اس عمارت سے داعش کا ایک شدت پسند مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا، وہاں اس نے مجھ سے مذہب تبدیل کرنے کو کہا لیکن میں نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد رات کو وہ کئی دیگر ساتھیوں کے ہمراہ آیا اور وہ مجھ سے اجتماعی زیادتی کرتے رہے حتیٰ کہ میں بے ہوش ہو گئی۔“ نادیہ مراد نے مزید کہا کہ

شدت پسند جنسی زیادتی کے ذریعے غلام بنائی گئی لڑکیوں اور خواتین کو تباہ کر دیتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں کبھی بھی نارمل زندگی نہ گزار سکیں۔اس نے دنیاکے تمام ممالک سے اپیل کی کہ ” وہ شام اور عراق کے المناک حالات سے بھاگ کر تحفظ کی تلاش میں آنے والے پناہ گزینوں پر اپنے دروازے بند نہ کریں۔“واضح رہے کہ نادیہ مراد اب جرمنی میں رہتی ہے جہاں اس کا جسمانی و نفسیاتی علاج کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں