کسی کی بھی زندگی خراب نہ ہو یہ ویڈیو تمام لوگ ضرور دیکھیں

کسی کی بھی زندگی خراب نہ ہو یہ ویڈیو تمام لوگ ضرور دیکھیں

یہ تو ایک طے شدہ بات ہے کہ دنیاوی و آخروی تمام کامیابیوں کا راستہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں دینِ اسلام کی صورت میں عطا فرما دیا ہے اور اسلام کے احکامات پر عمل کر کے ہی ہم دنیا اور آخرت میں آرام و سکون حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر اسلام سے دوری کا ایک بہت بڑا نقصان یہ بھی ہوا کہ لوگوں نے اسلام کو محض چند عبادات تک ہی محدود کرلیا اور باقی معاملات میں اسلامی احکامات کو یکسر فراموش کر دیا بلکہ یوں سمجھا جانے لگا کہ جیسے ان کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ حالانکہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے بارے میں اسلام نے ہماری رہنمائی نہ کی ہو اور باقی معاملات کی طرح شادی جیسے اہم معاملے میں بھی اسلام کی تفصیلی تعلیمات موجود ہیں جن پر عمل کا نتیجہ ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی صورت میں سامنے آتا ہے اوران سے اعراض کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ شاید ہی کوئی گھرانہ محفوظ ہو، ورنہ شادی کے کچھ ہی عرصہ میں فریقین کی طرف سے اعتراضات اور نزاع و اختلافات کا لامحدود سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو بالآخر بعض اوقات علیحدگی پر ختم ہوتا ہے۔ ان ناکامیوں کی بنیادی وجہ تو اسلامی تعلیمات پر عمل نہ کرنا ہی ہے جو رشتے کی تلاش سے لے کر میاں بیوی کے حقوق و فرائض اور گھریلو معاملات تک ہر موقع پر جامع دستور العمل فراہم کرتی ہیں۔ البتہ یہاں میں چند ایسے اسباب مختصراً عرض کرناچاہتا ہوں جن کو آجکل اکثریت ملحوظِ خاطر نہیں رکھتی، نہ اس طرف متوجہ ہوتی ہے ،الّا ماشائ اللہ:

دیندار رشتہ نہ ڈھونڈنا
ابتدا میں جو غلطی کی جاتی ہے وہ یہ کہ لوگ دیندار رشتے تلاش نہیں کرتے بلکہ اکثر تو دینداری کو ملحوظِ خاطر ہی نہیں رکھتے۔ حسن و جمال، دولت و شہرت، نوکری و کاروبار، زمین و جائیداد، تعلیم و ہنر ﴿دینی نہیں دنیاوی﴾ کو ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے، اور اس میں بھی معیار اتنا بلند رکھا جاتا ہے کہ تلاش کرتے کرتے عمر ہی گزر جاتی ہے۔ بالخصوص امارت کو بہت زیادہ ترجیح دی جاتی ہے کہ کوٹھی ہو، بنگلہ ہو، کار ہو وغیرہ۔ اس کے برعکس اس بارے میں جاننے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی کہ لڑکا دیندار بھی ہے یا نہیں بلکہ اگر لڑکا دیندار ہو تو اس کو قابلِ ترجیح نہیں سمجھا جاتا، بالخصوص داڑھی پر تو چہرے کے تاثرات ہی بدل جاتے ہیں جیسے یہ کوئی عیب ہو۔ اور اگر رشتہ کی بات چل ہی پڑے تو طرح طرح کی چہ مگوئیاں اور اعتراضات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے مثلاً داڑھی کٹوانے کا مطالبہ اور یہ کہ کہیں لڑکی پر پابندیاں تو نہیں لگائے گا، پردہ تو نہیں کروائے گا وغیرہ وغیرہ۔ اور اگر کوئی رشتہ ڈھونڈتے ہوئے دینداری کا لحاظ رکھ بھی لے تو لوگ صرف چند ظاہری عبادات کو ہی دینداری سمجھ لیتے ہیں، لہٰذا سمجھتے ہیں کہ جو پانچ وقت نماز پڑھتا ہے، ہر وقت تسبیح ہاتھ میں ہوتی ہے وہ بڑا دیندار ہے۔ حالانکہ دینداری کا معیار تقویٰ ہے اور دیندار آدمی وہ ہے جو ہمیشہ گناہوں سے بچنے اور اپنا ہر عمل اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کے تابع اور سنّت کے موافق کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔ لہٰذا اس معیار پر پرکھتے ہوئے دیندار رشتوں کو ترجیح دینی چاہیے۔ دنیا داری کا بھی بقدرِ ضرورت لحاظ رکھیں لیکن دینداری کو مقدم سمجھیں۔ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “جب کوئی ایسا شخص تمہارے پاس نکاح کا پیغام بھیجے جس کی دینداری اور اخلاق تمہیں پسند ہوں تو اس شخص سے ﴿اس لڑکی کا﴾ نکاح کردو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین پر بڑا فتنہ اور ﴿لمبا﴾ چوڑا فساد ہوگا”﴿مشکوٰۃ﴾۔ اور اس فساد کا عملی نمونہ آج کھلی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “عورت سے چار چیزیں دیکھ کر نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال کی وجہ سے، اس کی حیثیت کی وجہ سے، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے، اس کی دینداری کی وجہ سے، پس اے مخاطب تو دیندار عورت کو اپنے نکاح میں لاکر کامیاب ہو جا تیرا بھلا ہو”﴿مشکوٰۃ﴾۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “مومن بندہ نے تقویٰ کی نعمت کے بعد کوئی ایسی بھلائی حاصل نہیں کی جو اس کے حق میں نیک بیوی سے بڑھ کر ہو”﴿ابن ماجہ﴾۔ اسی کو نیک شوہر پر قیاس کر لیں۔ اس حدیث سے تقویٰ کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

اور عقل سے بھی یہ سوچنا چاہیے کہ جو آدمی دیندار نہیں، شریعت کے احکامات پر عمل نہیں کرتا، تو جو اللہ کے حقوق ادا نہیں کرتا وہ آپ کے حقوق کیا ادا کرے گا، جو اللہ اور رسول ﷺ سے وفا نہیں کرتا وہ آپ سے کیا وفا کرے گا اور جو اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمتوں کی قدر نہیں کرتا وہ آپ کے احسان کی کیا قدر کرے گا۔ اس صورت میں بھی اگر کوئی دینداری کو نظر انداز کر کے پکے دنیا داروں میں رشتہ کرے تو پھر کیکر کے بیج بو کر آموں کی اُمید رکھنا بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟ البتہ یہ بیوقوفی کرتے ہوئے لوگ ڈرتے بھی ہیں اسی لئے نکاح نامہ میں بڑی لمبی چوڑی شرائط لکھواتے ہیں کہ شوہر اگر دوسری شادی کرے گا اتنے لاکھ ادا کرے گا، اگر طلاق دے گا تو یہ کرے گا، اگر بیوی ناراض ہوکر میکے جائے گی تو اتنا خرچ دے گا وغیرہ۔ حالانکہ یہ بہت بڑی حماقت ہے، کہ اگر فریقین پر اعتماد نہیں تو رشتہ کیوں کر رہے ہیں اور اگر اعتماد ہے تو اس قسم کی شرائط کیوں رکھ رہے ہیں۔ کیا کبھی اس قسم کی شرائط اور مجبوریوں پر بھی گھر آباد ہوئے ہیں؟ گھر تو محبت، اعتماد و اخلاق سے بستے ہیں۔ میری بات کا یقین نہیں تو اردگرد کا مشاہدہ ہی کرلیں کبھی ایسا ہوا کہ ان شرائط نے کسی گھر کو ٹوٹنے سے بچا لیا ہو؟، کسی کو دوسری شادی سے روکا ہو؟، کسی کو طلاق دینے سے روکا ہو؟، کسی کو حق تلفی سے روکا ہو؟ کبھی نہیں۔ یہ بات تو عقل کے بھی خلاف ہے۔ بھلا کسی کو یہ غلطیاں کرتے ہوئے تمام شرائط کو یاد رکھنے یا سوچنے کا موقع ملتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہاں صرف اللہ کا خوف ہی ایک انسان کو تمام حقوق کی ادائیگی پر مجبور کر سکتا ہے جو ایک دیندار آدمی کے دل میں ہوتا ہے۔

یہ بات جہاں اللہ تعالیٰ پر عدم توکل پر دلالت کرتی ہے وہاں ابتدا ہی سے شوہر اور اُس کے گھر والوں کے دل میں بغض اور شبہات کا بیج بو دیتی ہے۔ شیطان اس کی بھرپور آبیاری کرتا ہے۔ شوہر کے دل میں ابتدا ہی سے یہ رنجش پیدا ہوجاتی ہے کہ ان لوگوں نے مجھ پر اعتماد نہیں کیا اور ان شرائط سے مجھے باندھنا چاہا۔ اور لڑکی والوں کا اس سے مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ ان شرائط کی وجہ سے شوہر مجبور اور بے بس رہے گا، چنانچہ بعد میں لڑکی اور اُس کے گھر والوں کا روّیہ معتدل نہیں رہتا اور وہ بعض اوقات زیادتی بھی کر جاتے ہیں۔ لیکن شوہر بھی ایک حد تک اور بعض اوقات تو بالکل بھی برداشت نہیں کرتا اور اُس کے دل کی رنجش اور کڑھن اُسے بغاوت پر مجبور کر دیتی ہے اور باغی کسی شرط کی پرواہ نہیں کرتا۔ بات بڑھنے پر معاملات گھروں سے نکل کر عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں جھوٹ سچ، جائز ناجائز کی کچھ پرواہ نہیں کی جاتی۔ پھر کچھ تو ساری زندگی یہ ذلّت برداشت کرتے رہتے ہیں، کبھی عاملوں کے چکر لگا رہے ہیں تو کبھی وظائف پوچھ رہے ہیں۔ کبھی کہا کہ فلاں نے تعویذ کر دیئے ہیں، فلاں نے کالا جادو کر دیا ہے اور اگر آجکل کے کسی جاہل پیر یا عامل نے اِس کی تصدیق کر کے رہی سہی کسر بھی پوری کردی تو بس اب سارا نزلہ اُس پر گر جاتا ہے جس پر تعویذوں کا شبہ تھا۔ اس طرح فساد در فساد اور دُشمنی کا یہ سلسلہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔ البتہ بعض لوگوں کے دم خم اور ہمتیں کچھ عرصہ دھکے کھانے کے بعد ٹوٹ جاتی ہیں تو تھک ہار کر “کچھ لے اور کچھ دے” کی بنیاد پر معاملہ ختم ہوتا ہے۔ جب گھر بار، دولت عزت لُٹا کر عمر بھر کی پریشانیاں اور ذلتیں سمیٹ کر بیٹھ جاتے ہیں ہیں تو پھر کہتے ہیں “قسمت میں جو لکھا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے، آدمی کیا کر سکتا ہے، جو اللہ کو منظور تھا وہی ہوا”۔ لیکن افسوس کہ اس جملے سے بھی رضابالقضا مقصود نہیں بلکہ اس کے پیچھے بھی یہ جذبہ کارفرما ہوتا ہے کہ خود ساری غلطیوں سے برّی الذمہ ہو کر سارا معاملہ تقدیر پر ڈال دیا جائے اور اُس شرمندگی سے بھی بچ جائیں جو لوگوں کے سامنے ہوتی اور دوسرا اب اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ ورنہ اگر رضا بالقضا ہی مقصود ہوتی تو پہلے توکل کیوں نہیں کیا اور ہر جائز ناجائز حربہ کیوں آزمایا؟ حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اب بھی اللہ تعالیٰ سے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے، شرمندگی کا اظہار کر کے سچے دل سے توبہ کرتے اور آئندہ شریعت پر مکمل عمل کرنے کا عزم اور عہد کرتے کیونکہ یہی ہر مسئلے کا حل ہے۔ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا “جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف فرما دیتا ہے”﴿شوریٰ۰۳﴾۔ لیکن ہمارا حال تو آجکل اُس عورت کی طرح ہے جس نے کہا کہ “جب میں بہو بن کر آئی تو ساس اچھی نہ ملی اور جب ساس بنی تو بہو اچھی نہ ملی” ۔ یعنی اس کو یہ خیال کبھی نہ آیا کہ ذرا اپنے اوپر ہی غور کر لوں کہ کہیں مجھ میں ہی تو عیب نہیں۔ لیکن اپنے عیوب دیکھنے کے لئے تو کوئی تیار ہی نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں